Friday, October 31, 2014

حضورﷺ کا امتی ہونا کتنا اعلَی مرتبہ ہے۔

دنیا میں جتنے بھی نبی ، پیغمبر اور لوگ اس دنیا میں تشریف لانے سے پہلے سب لوگوں کی یہ خواہش تھی اور اللہ سے دعا کرتے تھے کہ ہمیں ان کی امت میں پیدا فرما۔

ایک دفع ایک بادشاہ فتوحات کرتا ہوے یژب (مدینہ شریف کا پرانا نام) پہنچا اس نے اپنا ایک جرنیل شہر کے جالات معلوم کرنے کے لیے بیجھا کہ دیکھ کر او کہ شہر لوگوں کے کیا حالات ہیں تاکہ اس کے مطابق حملہ کریں۔ جرنیل اور وآپس آ کر کہنے لگا کہ شہر کے عموما لوگ غریب ہیں اور ان میں کچھ لوگ نجومی ہیں اور وہ سب ایک بات پر متفق ہیں کہ اس شہر میں ایک نبیﷺ ہجرت کرکے آیں گے ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ باشاہ نے ایک خط لکھ کر اس جرنیل کو دیا اور کہا کہ آپ ادھر ہی رک جاو اس شہر میں جب وہ نبیﷺ تشریف لانیں تو یہ میرا خط ان کو دے دینا۔

وہ جرنیل مدینہ شریف میں رک گیا اور وہ خط نسل در نسل آگے چلتا گیا۔ پھر وہ دن آگیا جب حظور ﷺ ہجرت کرکے مدینہ شریف تشریف لاے۔ سب لوگ خوشی سے آپکو دعوت دے رہے تھے کہ ہمارے پاس قیام فرماںیں مگر فیصلہ یہ ہوا کہ جس کے دروازے کے سامنے آپﷺ کی اونٹھنی ٹہرے گی آپ ﷺ ادھر قیام فرماییں گے۔ آپکیﷺ اونٹھنی حضرت ایوب انصاری کے گھر کے سامنے رکی۔ یہ ایک اتفاق نہیں تھا۔ حضرت ایوب انصاری بہت خوش تھے اور خوشی میں وہ خط حضورﷺ کو دینا بھول گے اں کی بیوی نے ان کو یاد دلایا کہ وہ خط حضورﷺ کو پیش کریں۔ آپ نے وہ خط جضورﷺ کو پیش کیا۔ وہ خط ۵۰۰ سو سال پرانی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ وہ خط کسی سے پڑوایا گیا جو اس زبان کو جانتا تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ مجھے اپنی امت میں شامل کرلیں۔

آپﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاے اور ان کے لیے دعا کی۔

Tuesday, October 28, 2014

خدا جسے جآہے عزت دے اور جسے چاہے ذ لت دے


لوگ عام طور پر اس آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ جس کے پاس زیادہ دولت یا عہدہ وہ زیادہ عزت دارہے حالانکہ عزت دار وہ جس اس دنیا میں بھی عزت ھو اور آخرت میں میں بھی۔ مثال کے طور پرحضرت علی ہجویریؓ کی دنیا میں بھی عزت ہے اور آخرت میں بھی۔ عزت یہ ہے کہ مرنے کے بعد حظور ﷺ کی قبر میں تشریف آوری ھو اور آپﷺ فرشتوں کو ہاتھ سے اشارہ کریں کہ اس کوسوال مت کرو یہ میرا عاشق ہے۔ اس کو عزت کہتے ہیں۔ اور ذلت ہہ ہے کہ خدا جس کو اپنی   

درگاہ وسے نکال دے۔

 

   اکتوبر 2014۔ 17 کٹھ لاھور