Thursday, January 22, 2015

Battle of the Trench(Banu Qurayza tribe)

http://en.wikipedia.org/wiki/Battle_of_the_Trench

اپنی نمازوں کی حفاظت کرو۔ خاص کر درمیان والی نماز کی۔ اور علم حاصل کرو۔

پیغام کو دوسروں تک ضرور پہیچاٗہیں۔ اگر اپنے پاس رکھیں گے تو یہ خود غرضی ہے۔ علم حاصل کرو۔ ماں کی گود سے لے کر قبر تک۔  

اپنی نمازوں کی حفاظت کرو۔  خاص کر درمیان والی نماز کی۔
 نماز کی حفاظت یہ ہے کہ اصل نماز یہ ہے کہ نمازی خود موجود نہ ہو۔ جودم غافل سو دم کافر۔  باطن کی نماز یہ ہے کہ ہر دم اللہ کی طرف خیال رہے۔ اور اس نماز حفاطت یہ ہے کہ دل میں غیر نہ گزرے۔ اور غیر مطلب یہ ہے کہ دل میں مختلف قسم کے خیالات آہٗیں اللہ کے خیال کےعلاوہ نماز پڑھتے ہوےٗ۔
  دل ہی انسان کا باطن ہے۔
ایک چوہا اونٹ کی مہار پکڑ کر چل پڑا۔ راستے میں پانی آ گیا۔ چوہا ڈر کر رک گیا اونٹ نے کہا کہ آگے چلو چوہے نے کہا کہ میں تو ڈوب جاؤں گا اونٹ آگے بڑھ کر پانی میں پاؤں رکھا تو پانی اسکے پاؤں تک ہی پہنچا اور چوہا پیچھے رہ گیا۔ اس
لئےاپنے آپ کو کبھی یہ نہ سمجھیں کہ آپ بہت علم واے ہیں۔



FITNA

FALLAH say kare door to taleem bhi fitna.
amlaak bhi olaad bhi jageer bhi fitna.
na-haq k lye uthay to shamsheer bhi fitna.
shamsheer he kya nara e Takbeer bhi fitna .


اللہ کے پیغام کو آگے بڑھانا۔

آیت نمبر52 العمرآن میں حضرت عیسی نے اپنے حواریوں سے مخاطب ھو کر فرماتے ہیں کہ کون ہے میرا مدد گار اللہ کے لیے تو ان کے حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مدد گار اور آپ گواہ رہیں کہ ہم تابعدار ہیں۔ اس آیت میں لفظ انصار آیا ہے۔ انصار کا لفظ ہجرت کے بعد استعمال ھوا۔ حجرت کے وقت حضورﷺ نے ہرایک کو بھائی بھائی بنا دیا اورایک دوسرے پر اتنے حقوق دئے کہ صحابہ کرام یہ سمجھنے لگے کہ کہیں حضورﷺ جائیداد میں حصہ دار نہ بنا دیں۔ جب سب لوگ ایک دوسرے کے بھائی بن گئے تو حضرت علیٌ اکیلے رہ گئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم میرے بھائی بن جاؤ۔
اس آیت میں اللہ کی مدد سے مراد ہے کہ اللہ کے پیغام کو آگے بڑھانا ہے۔  جیسا کہ اللہ کے نبی اور ولی اسکا پیغام دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اگر کسی کو ایک حدیث آتی ہے تو وہ دوسروں تک پہنچائے۔ 

کسی کو کافر مت کہیں کیونکہ اس کا اختیار اللہ اور اٌسکے رسولﷺ کو ہے آیت نمبر 32 العمران میں یہ واضع ارشاد ہے کہ وہ جو ایمان لیۓ اور بعد میں بدل گئے وہ لوگ کافر ہیں۔ اور یہ فیصلہ اللہ اور رسولﷺ بہتر کر سکتے ہیں۔        

Monday, December 8, 2014

موضع ۔ اللہ کی نشانیاں، اللہ سے محبت ، رسولؐ کی عطاعت اور کسی کو کافر مت کہو۔

باقایؑدگی کے اندر بھی باقایؑدگی ضروری ہے۔ آیت کا مطلب نشانی ہے۔  پرندون کا بولنا، سورج ، چاند ستارے یہ کانؑنات سب اللہ کی نشانیاں ہیں۔  انسان اللہ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔  اللہ نے انسان کو دو دفع پیدا کیا۔ ایک جب وہ پیدا ھوا تو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ اور دوسری دفع انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاےؑ گا۔ 

اللہ نے آسمان اور زمیں کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ اللہ کے علاوہ کون کر سکتا ہے۔ جب ساری تیاری ھو گیؑ تو انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر زمیں پر اتارا اور ایک پیغام دیا کہ جب میری طرف سے ہدایؑت آےؑ اس کی پیروی کرنا اور اس پر عمل کرنا۔  ھدایؑت حضرت آدمؑ سے ھوتی ھویؑ حضورؐ تک پہنچی اور آپ نے دین مکمل کر دیا۔  اور فرمایا میرے بعد کویؑ اور نبی نہیں آےؑ گا۔
قل قرآن پاک میں بڑا خوبصورت انداز بیان ہے۔ کہ فرما دیجؑے۔  سورۃ العمران آیات نمبر ۳۰ پہلے اللہ سے محبت کرو اور پھر رسولؐ کی اطاعت کرو۔ پھر اللہ بھی تم سے محبت کریگا اور اللہ اس کے گناہ معاف کردیگا۔


 
   جب تم کو نعمت عطا کی جاےؑ تو جک جاوؑ تاکہ تم پر رحم کیا جاےؑ۔ کسی کلمہ گو کو کافر مت کہیں اس کے کام کو برا سمجھیں کافر اور مشرک میں فرق ہے۔ سچ کو ماننے کے بعد اس سے مکر جانا۔ حق کو جاننے کی بعد اس کا انکار کر دینا۔
تولو کا مطلب ہے پٹڑی سے اتر جانا۔

کٹھ ۵ دسمبر ٢٠١٥

Friday, October 31, 2014

حضورﷺ کا امتی ہونا کتنا اعلَی مرتبہ ہے۔

دنیا میں جتنے بھی نبی ، پیغمبر اور لوگ اس دنیا میں تشریف لانے سے پہلے سب لوگوں کی یہ خواہش تھی اور اللہ سے دعا کرتے تھے کہ ہمیں ان کی امت میں پیدا فرما۔

ایک دفع ایک بادشاہ فتوحات کرتا ہوے یژب (مدینہ شریف کا پرانا نام) پہنچا اس نے اپنا ایک جرنیل شہر کے جالات معلوم کرنے کے لیے بیجھا کہ دیکھ کر او کہ شہر لوگوں کے کیا حالات ہیں تاکہ اس کے مطابق حملہ کریں۔ جرنیل اور وآپس آ کر کہنے لگا کہ شہر کے عموما لوگ غریب ہیں اور ان میں کچھ لوگ نجومی ہیں اور وہ سب ایک بات پر متفق ہیں کہ اس شہر میں ایک نبیﷺ ہجرت کرکے آیں گے ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ باشاہ نے ایک خط لکھ کر اس جرنیل کو دیا اور کہا کہ آپ ادھر ہی رک جاو اس شہر میں جب وہ نبیﷺ تشریف لانیں تو یہ میرا خط ان کو دے دینا۔

وہ جرنیل مدینہ شریف میں رک گیا اور وہ خط نسل در نسل آگے چلتا گیا۔ پھر وہ دن آگیا جب حظور ﷺ ہجرت کرکے مدینہ شریف تشریف لاے۔ سب لوگ خوشی سے آپکو دعوت دے رہے تھے کہ ہمارے پاس قیام فرماںیں مگر فیصلہ یہ ہوا کہ جس کے دروازے کے سامنے آپﷺ کی اونٹھنی ٹہرے گی آپ ﷺ ادھر قیام فرماییں گے۔ آپکیﷺ اونٹھنی حضرت ایوب انصاری کے گھر کے سامنے رکی۔ یہ ایک اتفاق نہیں تھا۔ حضرت ایوب انصاری بہت خوش تھے اور خوشی میں وہ خط حضورﷺ کو دینا بھول گے اں کی بیوی نے ان کو یاد دلایا کہ وہ خط حضورﷺ کو پیش کریں۔ آپ نے وہ خط جضورﷺ کو پیش کیا۔ وہ خط ۵۰۰ سو سال پرانی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ وہ خط کسی سے پڑوایا گیا جو اس زبان کو جانتا تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ مجھے اپنی امت میں شامل کرلیں۔

آپﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاے اور ان کے لیے دعا کی۔

Tuesday, October 28, 2014

خدا جسے جآہے عزت دے اور جسے چاہے ذ لت دے


لوگ عام طور پر اس آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ جس کے پاس زیادہ دولت یا عہدہ وہ زیادہ عزت دارہے حالانکہ عزت دار وہ جس اس دنیا میں بھی عزت ھو اور آخرت میں میں بھی۔ مثال کے طور پرحضرت علی ہجویریؓ کی دنیا میں بھی عزت ہے اور آخرت میں بھی۔ عزت یہ ہے کہ مرنے کے بعد حظور ﷺ کی قبر میں تشریف آوری ھو اور آپﷺ فرشتوں کو ہاتھ سے اشارہ کریں کہ اس کوسوال مت کرو یہ میرا عاشق ہے۔ اس کو عزت کہتے ہیں۔ اور ذلت ہہ ہے کہ خدا جس کو اپنی   

درگاہ وسے نکال دے۔

 

   اکتوبر 2014۔ 17 کٹھ لاھور